جمعہ 25 ستمبر 2026 - 12:57
بہادر قوم کی بہادر قیادت

حوزه/آجکل پوری دنیا میں ایرانی قیادت کا چرچا ہے۔جنرل اسمبلی کا اجلاس ہے،جنرل اسمبلی کا فورم ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر الزام لگاتا ہےکہ “Terrorist Regime behaves badly “یعنی دہشت گرد حکومت نے برا رویہ اختیار کر رکھا ہے۔اس کے بعد اسلامی جمہوری ایران کے صدر مسعود پزشکیان کو جب ڈائیس دیا گیا تو انہوں نے امریکی صدر کے الزامات کا بھر پور انداز میں جواب دیا۔

حوزه نیوز ایجنسی | آجکل پوری دنیا میں ایرانی قیادت کا چرچا ہے۔جنرل اسمبلی کا اجلاس ہے،جنرل اسمبلی کا فورم ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر الزام لگاتا ہےکہ “Terrorist Regime behaves badly “یعنی دہشت گرد حکومت نے برا رویہ اختیار کر رکھا ہے۔اس کے بعد اسلامی جمہوری ایران کے صدر مسعود پزشکیان کو جب ڈائیس دیا گیا تو انہوں نے امریکی صدر کے الزامات کا بھر پور انداز میں جواب دیا۔

انہوں نے کہا کہ وہ جس ایران سے آئے ہیں وہاں انکے مقبول و محبوب رہبر کو شھید کیا گیا ۔ساتھ ہی انہوں نے رہبر معظم جناب سید علی خامنہ ای کی تصویر ہوا میں لہرائی۔

پھر انہوں نے کہا کہ وہ ایسے ایران سے آئے ہیں جہاں میناب سکول کی معصوم بچیوں کو بموں کا نشانہ بنایا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جس دن میں نے صدر کی حیثیت سے حلف اٹھایا اسی دن اسرائیل نے عظیم رہنماء اسماعیل ہانیہ کو تہران میں ٹارگٹ کلنگ کر کے شھید کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم دہشت گرد نہیں ہیں بلکہ دہشت گردی کا شکار ہوئے ہیں۔اصل دہشت گرد امریکہ اور اسرائیل ہے۔

صدر پزشکیان نے امریکی “ دیوانے” صدر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پابندیاں ایران کو کمزور نہیں کر سکتیں بلکہ مزید تیز کریں گی۔

انہوں نے کہا کہ ایران طاقت کی زبان نہیں سمجھتا بلکہ وہ عزت و احترام اور مذاکرات کی زبان سمجھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم جوہری پروگرام کو ایران کی ترقی کے لیے جاری رکھیں گے۔ہمارا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں ایک دہشت گرد کی طرح کاروائیاں کی ہیں۔ستر ہزار سے زیادہ فلسطینیوں کو موت کے گھاٹ اتارا۔لاکھوں کو زخمی کیا۔

انہوں نے کہا کہ غزہ میں مزاحمت کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔

ایرانی صدر کی تقریر میرے نزدیک امریکہ اور اسرائیل کے خلاف ایک چارج شیٹ ہے جو انہوں نے اقوام عالم کے سامنے نہایت کامیابی اور بہادرانہ طریقے سے پیش کی ہے۔

ایرانی وفد جب ہال میں داخل ہوا تو ان کے چہروں سے طمانیت اور سکون کے اثرات نہایت واضح اور نمایاں تھے۔اس وفد نے اپنے عوام کی بھرپور نمائندگی کی۔ایرانی عوام کی قربانیوں اور ریاست کا ساتھ دینے کا بھی اظہار کیا۔ دنیا جانتی ہے کہ جب دہشت گردوں نے ایرانی رہبر معظم کو شھید کیا اور جنگ کا آغاز ہوا تب سے ایرانی عوام دن رات سڑکوں پر ہے۔اپنی افواج کا بھر پور ساتھ دے رہی ہے۔اس کا مظاہرہ میں نے خود تہران مشھد اور قم کے چوکوں چوراہوں پر کیا۔میں نے رات کے بارہ بجے کے بعد بھی عوام الناس کو سڑکوں اور چوراہوں پر امریکہ اور اسرائیل کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے دیکھا۔ ایران پر ٹنوں کے حساب سے بارود پھینکا گیا اور ہر طرف سے دہشت گرد حملہ آور رہے مگر عوام کا مورال بلند ہی رہا۔عوام نے اپنی ریاست کو سرنگوں نہیں ہونے دیا۔آج ایرانی قوم پہلے سے کہیں زیادہ معاشی مشکلات کا شکار ہے مگر وہ باطل کے سامنے نہ پہلے جھکے تھے اور نہ اب جھکیں گے۔

بعض ذرائع بتا رہے ہیں کہ امریکہ اپنی شکست فاش کی خفت مٹانے کے لیے نیو کلئیر حملہ کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

واشنگٹن کے شکست خوردہ نام نہاد لیڈرز اگر یہ سوچ رہے ہیں کہ وہ ایٹم بم مار کے ایران کو شکست دے گا تو یہ اس کی خام خیالی ہے۔یہ بات واضح ہے کہ اس قسم کی کوئی بھی جارحیت نہ صرف ایران کو متاثر کرے گی بلکہ اس سے خلیج کی ریاستیں بھی نقصان اٹھائیں گی۔یہ آگ صرف ایران کی سرحدوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پورا خطہ اس کی لپیٹ میں آئے گا۔
عربوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہییں۔انہوں نے امریکہ کو اڈے دیے اور ٹرلینز آف ڈالرز انویسٹمنٹ دی مگر وہ انکی حفاظت نہ کرسکا۔آج پورا عرب اپنی حفاظت کی دنیا سے بھیک مانگ رہا ہے مگر ان کے ساتھ کوئی کھڑا ہونے کو تیار نہیں ہے۔آج اگر وہ امریکہ کو اپنے علاقوں سے بے دخل کر دیں اور اڈے واپس لے لیں، اپنی دولت واپس لے لیں تو انکا امن و سکون اور عزت بلکہ سب کچھ بحال ہو سکتا ہے۔
یہ بات دنیا پر واضح ہوچکی ہے کہ امریکہ ایک دہشت گرد ریاست ہے اور عرب خطے میں ایک ناجائز صیہونی ریاست اسرائیل کا باپ بن کر اسکی پرورش کر رہا ہے۔وہ عربوں کا کبھی نہیں ہوسکتا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha